پٹنہ،13؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)نتیش کابینہ کی توسیع کو لے کر سیاست کا بازار گرم ہے۔ این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کے اراکین اسمبلی وزارت میں شمولیت چاہتے ہیں۔ لیکن آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ نتیش کابینہ کی توسیع اب اس ماہ توہونی ہی نہیں ہے اگلے سال کے تیسرے ہفتہ میں نتیش کابینہ کی توسیع متوقع ہے۔ چونکہ 15دسمبر سے کھرماس شروع ہورہا ہے جو 14جنوری تک رہے گا۔اس دوران کوئی شبھ کام نہیں کیے جاتے۔ وزارت میں شمولیت کے خواہاں ارکان اسمبلی کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔اب بہار کابینہ کی توسیع 14جنوری کے بعد ہی متوقع ہے۔
گذشتہ 16نومبر کو نتیش کابینہ کی تشکیل ہوئی تھی جس میں وزیراعلیٰ سمیت 15وزراء بنائے گئے تھے جن میں 7بی جے پی کوٹہ سے تھے اسی درمیان جے ڈی یو کوٹہ سے وزیربنے میوالال چودھری بدعنوانی کے الزام کے سبب مستعفی ہوگئے تھے اس لیے ابھی نتیش کابینہ میں محض 14وزراء ہیں۔ این ڈی اے کی اہم حلیف بی جے پی اس بار وزارت میں زیادہ سیٹیں چاہتی ہیں تاکہ اپنے لوگوں کو سیٹ کیا جائے اور اہم وزارت سونپی جائے۔ ویسے بھی 243رکنی بہار اسمبلی میں ضابطہ کے مطابق محض 36وزراء بن سکتے ہیں۔ نتیش کمار چاہتے ہیں کہ پارلیامنٹ الیکشن کی طرح جے ڈی یو بی جے پی میں برابر برابر وزارت کی شمولیت ہو۔
جبکہ بی جے پی کے سینئر لیڈران کاکہناہے کہ چونکہ بی جیپی این ڈی اے کی سب سے بڑی پارٹی ہے اس لئے وزارت میں 18سے 20سیٹیں دی جائیں۔گورنر کوٹہ سے 12ارکان قانون ساز کونسل کی نامزدگی بھی ہونی ہے جس میں 5-5بی جے پی ایک -ایک ہم اور وی آئی پی کو دیا جانا ہے۔ وی آئی پی کے سربراہ مکیش سہنی تو وزارت کا عہدہ بھی سنبھال چکے ہیں وہ کسی ایوان کے رکن نہیں ہیں اس لیے انہیں قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کیا جائیگا۔ اس کے علاوہ جتین رام مانجھی کی پارٹی ہم کو بھی ایک سیٹ دی جائے گی۔ بقیہ سیٹیں جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان تقسیم ہوگی۔ کھرماس کے سبب ارکان کونسل کی نامزدگی بھی اگلے سال کے تیسرے ہفتہ میں ہی متوقع ہے۔نتیش کابینہ میں پہلی بار مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہے۔ چونکہ ایک بھی مسلم لیڈر جے ڈی یوسے کامیاب ہوکر اسمبلی نہیں پہنچ سکے۔ اس لئے توقع ہے کہ 7مسلم ارکان قانون ساز کونسل جوجے ڈی یوسے ہیں انہیں میں سے کسی ایک کو وزارت میں جگہ دی جاسکتی ہے۔